Garden-fresh finds · Free shipping over $65 · Browse the beds

Majmua Syed Rafiq Husain aslam rahi ان کی پیشہ ورانہ شہرت

SKU: 8010346533

4.8
USD342.50 USD392.50

Pay in 4 interest-free payments of $85.62 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 5 - Aug 10

Description

ان کی پیشہ ورانہ شہرت کا آغاز اس وقت ہوا جب ان کو سپیشل سرس گروپ (ایس ایس جی) تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ پاکستان آرمی میں غالباً وہ واحد آفیسر تھے جن کو اس کا تجربہ حاصل تھا۔ اس ذمہ داری نے انہیں نہ صرف آرمی بلکہ نیوی اور ائیرفورس میں بھی ایک لیجنڈ کے طور پر متعارف کروایا اور جب وہ 1966-68ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کمانڈنٹ تعینات کیے گئے تو انہوں نے سینکڑوں نوجوان کیڈٹوں پر اپنی شخصیت کے انمنٹ نقوش ثبت کیے۔ 1965ء میں انہوں نے مشرقی پاکستان میں انفنٹری بریگیڈ کمانڈ کیا اور 1971ء کے اوائل میں بھی بطور ڈپٹی کور کمانڈر وہاں ایک فعال کردار ادا کیا۔ 1968ء سے لے کر 1970ء تک انہوں نے فرسٹ آرمرڈ ڈیویژن کی کمانڈ کی۔ جب دسمبر 1971ء میں اس وقت کے سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو نے ان کو قبل از وقت ریٹائر کر دیا تو وہ جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل پوسٹ تھے۔

اس کتاب میں آپ کو ایسے آزمودہ اور عملی طریقے ملیں گے جن پر عمل کرنے سے کوئی بھی سیلز مین انفرادی طور پر یا کوئی سیلز ٹیم اجتماعی طور   پر فائدہ حاصل کر سکتی ہے۔ ان تیکنیکس پر عمل کسی ادارے کے لئے بھی اتنا ہی سود مند ثابت ہوسکتا ہے جتنا کہ انفرادی سطح پر ؛ بلکہ یہاں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ سیلز میں کامیابی کے لئے اس سے زیادہ سیدھا، سادہ اور ثمر آورطریقہ شاید ہی ممکن ہو۔

"کیا تمہں معلوم ہے کہ میں کس چیز سے خائف ہوں

عثمانی ترک، جن کا نام ان کے پہلے فرمانروا عثمان خان سے منسوب ہے،ایشیائے کوچک میں پہلے خانہ بدوشوں کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ ان خانہ بدوش ترک قبائل نے سلجوقی ولایتوں کی بنیاد رکھ کر مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے وسط اناطولیہ کی سرزمین پر ایک نئے تاریخی دَور کی ابتدا کی۔ اور پھر انہی کے بطن سے عثمانی سلطنت کا آغاز ہوا جس کی سرحدیں تین براعظموں اور پانچ صدیوں تک پھیل گئیں۔ قسطنطنیہ جیسا اہم یورپی شہر اس سلطنت کا پایہ تخت بن کر سلطنت ِعثمانیہ کی پہچان بن گیا۔ اس سلطنت کی تاریخ کئی حوالوں سے اہم ہے کہ عثمانیوں نے رومیوں اور بازنطینیوں کی جگہ ایک خلا کو پُر کرکے نئی ترک تہذیب کی بنیاد رکھی۔ سلطنت ِ عثمانیہ کو اسلامی تاریخ کا اہم ترین باب قرار دیا جاتا ہے جس نے تین براعظموں کی لاتعداد ثقافتوں اور خطوں پر اپنا پرچم سربلند کردیا۔ عثمانی تاریخ وتہذیب ترکوں کی ہی میراث نہیں بلکہ غیرترک مسلمان بھی اسے اپنی میراث سمجھتے ہیں۔ عرب، ہند، فارس، انڈونیشیا، چین، ترکی، وسطی ایشیا اور کاکیشیا جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں، وہ عثمانی دَور کو محبت اور فخر سے یادکرتے ہیں۔ اس دَور کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ عثمانیوں نے زیرحکمرانی خطوں میں بسنے والے غیرمسلموں پر کوئی جبر نہیں کیا۔ اسی حکمت عملی نے عثمانیوں کو پانچ صدیاں مختلف خطوں، قوموں، تہذیبوں، ثقافتوں پر حکمرانی کرنے کے مواقع فراہم کردئیے۔ آج کی جدید دنیا میں بھی عثمانی تاریخ وتہذیب اور عثمانی سلطنت کو بڑی دلچسپی کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ ترکوں نے اسلام کی جوگراں قدر خدمات انجام دی ہیں، دفاع وجہاد کے فرض کو، جس سرفروشی سے ادا کیا ہے، اس کا اعتراف جتنا بھی کیا جائے کم ہے، صرف یہی ایک بات ہر اس تالیف کے لیے معقول وجہ ہوسکتی ہے، جو عثمانی ترکوں کے کارناموں پر ترتیب دی جائے۔ اس کتاب کی ترتیب میں عثمانی ترکوں کی تاریخ سے متعلق انگریزی، عربی اور فارسی کی مستند ترین کتابوں، نیز بعض منتخب ترکی اور فرانسیسی تاریخوں کے ترجموں سے مدد لی گئی ہے اور تلاش وتحقیق کے حوالے سے یہ ایک جامع اور مستند کتاب ہے۔

شادی کی اہمیت کے بارے میں ایک بزرگ کا قول

Majmua Syed Rafiq Husain aslam rahi ان کی پیشہ ورانہ شہرتLanguage: UrduNumber of Pages: 358

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products